برف زار

اس کمرے کو دیکھ کر ذہن میں اگر کچھ آتا تھا تو وہ اک ہی چیز تھی۔ برف زار۔ ۔ پورا کمرہ سفید رنگ کی تھیم سے آراستہ تھا۔ دیواریں سفید، فرنیچر سفید، فرش ٹھنڈےسفید ماربل سا چمکتا۔ سامنے دیوار پر لگے وال پیپر  پر بھی سفید  تتلیاں  بے حد ہلکے نیلے بیک گراؤنڈ سے اٹھکلیاں کرتی تھیں۔ 

نیٹ کے نفیس نازک پردے گویا پریوں کے ملبوس اس وقت گلاس وال کے سامنے سے ہٹا کے سمیٹ دیے گئے تھے۔ نیلے قمقمے بے حد دھیمی ٹھنڈی خوابناک روشنی لٹاتے تھے۔ اے سی کی ہلکی سی خنکی نے ماحول کے ہر تاثر کو بھرپور کاملیت عطا کردی تھی۔ 

وہ گہرے نیلے حریری لبادے میں گلاس وال کے سامنے کھڑی برستی بارش دیکھ رہی تھی۔ سرخی مائل بھورے بال کندھے سے آگے کو ڈالے ہوئے تھے۔ چند لٹیں چہرے کے اطراف جھولتی تھیں۔ 

وہ کمرے میں آیا تو اس کی محویت کو نوٹس کئے بنا رہ نہیں سکا۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کے کافی کاسفید  مگ اس کے سامنے کیا۔ جس پر (Till death do us apart) لکھا صاف نظر آتا تھا۔ 

اس نے مسکرا کر کافی کا مگ تھاما۔ اب وہ کافی جیسی بھی تھی۔ بنانے والے نے اس کے لئے بنائی تھی اتنا کافی تھا۔ 

کیسی ہے؟ اس کو سپ لیتا دیکھ کر وہ رہ نہیں سکا۔ 

بس ٹھیک ہے۔ چلے گی۔ اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔ دوسرے گھونٹ سے پہلے وہ اس کے ہاتھ سے مگ لے چکا تھا۔ 

ایسا کرو جا کر خود بنا لو  ۔ اس کے مگ سے گھونٹ بھرتے ہوئے وہ پلٹا۔ 

وہ تیزی سے پیچھے آئی۔ اچھی ہے یار بہت۔ پکا پرامس۔ واپس تو کرو۔ 

پہلے بولو اس سے اچھی کافی تم نے زندگی میں کبھی نہیں پی۔ اس نے دونوں مگ اپنے پیچھے چھپائے۔ 

یار بھئی۔ ۔ وہ بری طرح جھنجھلائی۔ اچھا اوکے۔ اس سے اچھی کافی میں نے زندگی میں نہیں پی۔ اب لاؤ واپس کرو۔ 

نہ نہ۔ ۔ اس نے گردن دائیں بائیں ہلا کر بڑا سا گھونٹ بھرا۔ اب بولو میں اک سفید بندریا ہوں۔ جس نے میری تمھاری ہر چیز کو چونا لگا دیا یے۔ تب دونگا۔

واٹ؟ اس کی آواز صدمے سے پھٹی۔ ۔ 

دفع ہوجاؤ اپنی کالی کلوٹی کافی لیکر  ۔ نہیں چاہیے۔ 

وہ رخ موڑ کر واپس گلاس وال کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ بارش سبز پتوں کی پیشانیاں چوم کر انکو زندگی کی نوید دے رہی تھی۔ 

بال سمیٹ کر اس نے ہاتھ سینے پر باندھ لئے۔ سنہری آنکھیں بجھی سی لگتی تھیں۔ جیسے چند لمحے پیشتر۔ وہ مگ سائڈ ٹیبل پر رکھ کر پیچھے چلا آیا۔ آہستگی سے اپنے بازو اس کے گرد لپیٹے۔ 

اداس ہو؟ 

پتہ نہیں۔ ۔بارش میرے لئے کبھی اچھے پیغام نہیں لاتی۔ اک دفعہ بارش میں ،میں نے اپنے سارے رنگ کھوئے۔ دوسری دفعہ زندگی کی امید۔ بارش تب بھی اسی طرح برستی تھی۔ اب میرے پاس کچھ بھی کھونے کا حوصلہ نہیں۔سنہری آنکھیں بھیگی سی تھیں۔ اس کا دل ڈوب کر ابھرا۔ سارے لفظ گیلے کاغذ ہوئے جنکی سیاہی پھیل گئی ہو۔ 

میں جانتی ہوں سفید رنگ زندگی سے عاری رنگ ہے۔ پھر بھی میں نے اسے تمھاری زندگی میں بھر دیا۔ 

اس کی الجھن کے سرے بہت دور تک جاتے تھے۔ زخم جو بھی تھا۔ اتنا ہلکا ہر گز بھی نہیں تھا جو چند لمحوں میں بھر جاتا۔  اس نے گہری سانس بھر کے مگ اٹھا کہ اسکو تھمایا۔ 

لوگ کہتے ہیں محبت اک بار ہوتی ہے۔  

ہاں تو؟ وہ ایسی بے موقع بے تکی بات پر حیران ہوئی۔ 

مجھے تو روز ہوتی ہے۔ جب تمھیں دیکھتا ہوں، تم سے بات کرتا ہوں۔ وہ خاموش ہوا ۔ حیران سنہری آنکھیں گہری سیاہ آنکھوں سے ملیں ۔ 

سفید رنگ میری محرم کا رنگ ہے۔ پاکیزگی کا رنگ ہے۔ اور بارش کا پانی اللہ کا عطا کردہ خالص ترین پانی ہے۔ جیسے کوئی حلال رشتہ۔ محبت سے گندھا۔ اس پانی میں ایسی شفا ہے جیسی حلال رشتوں میں روح کے زخموں کی شفا ہوتی ہے۔ ان چیزوں کو حادثوں کا قصوروار ٹھرانا اچھی بات نہیں ہوتی۔ 

اس کے پاس الفاظ نہیں ہوتے تھے۔ مگر جب ہوتے تھے تو روح کے کانٹے نکال دیتے تھے۔

Till Death Do us Apart. .

گہرے نیلے گاؤن والی کانچ سی لڑکی کا دل مگز پر لکھی عبارت دیکھ کر یک بیک اللہ کی بارگاہ میں شکر ادا کرنے سجدہ ریز ہوا۔ 

تم زندگی ہو۔ ۔ وہ کھلکھلائی۔ 

زندگی نے اسکا ماتھا چوم کے سرگوشی کی تھی۔ ۔ 

پاگل بندریا۔ ۔  

Advertisements

4 Replies to “برف زار”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s