Scene #24

وہ لکڑی کے منقش جھولے پر بیٹھی آہستہ آہستہ جھول رہی تھی.فضا پھولوں کی دلفریب مہک سے بوجھل تھی. بڑے سے لان کی سجاوٹ میں مہارت اور سلیقہ بے حد نمایاں تھا.لش گرین گھاس کا فرش دور تک پھیلا ہوا تھا.بوگن ویلیا کی گھنی بیلیں دیواروں سے یوں لپٹی تھیں کہ دیوار نظر ہی نہ آتی تھی.بس خوش رنگ و خوشنما پھول اپنی بہار دکھاتےتھے.ہر پودے کی تراش و دیکھ بھال یقیناً ماہر ہاتھوں کا کمال تھا.درمیان میں ننھا سا سوئمنگ پول جس کا شفاف پانی جگمگا رہا تھا. بچوں کا سا اشتیاق چہرے پر سجائے وہ ماحول کا تفصیلی جائزہ لینےمیں مگن تھی. ایک جانب بڑے سے پنجرے میں بے حد خوبصورت مکاؤ کا جوڑا بیٹھا تھا. اس کے دل میں بے ساختہ خواہش ابھری کہ ان طوطوں کو قریب سے دیکھے.دھیرے سے جھولے سے اٹھ کر وہ پنجرے کے قریب چلی آئی.جالی میں انگلیاں پھنسا کر اس نے بے حدشوق سے اندر جھانکا. وہ ہی بچپن کی عادت

 “زیادہ انگلی اندر گھسائی تو یہ انگلی ہی  نکال لیں گے”پیچھے سے آواز ابھری.وہ بنا چونکےپلٹی

یہ سب بہت خوبصورت ہے” اسکی آواز میں کھنک تھی

اسی لیے تو یہاں  لایا ہوں” وہ مسکرایا.. واپس جھولے کی طرف مڑتے وہ دونوں ہمقدم تھے

تمھیں ہر بار کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ مجھے کیا چیز خوش کر دیگی” .. وہ حیران نہیں تھی. بس پوچھ رہی تھی

جادو سے“… وہ ہلکا سا ہنسا. وہ واپس جھولے پر آبیٹھے.جھولہ دھیرے دھیرے آگے پیچھے جھولنے لگا.اس کے لمبےبرگنڈی رنگ کے بال بالکل سیدھے کر کے  پشت پر بکھرے تھے. اسٹائلش کٹ کے باعث آگے کے بال چہرے کے ارد گرد بکھرتے تھے. ٹھنڈی ہوا ریشم سے بالوں کو پیچھے کی طرف اڑا رہی تھی.اس کی پوری توجہ ماحول پر تھی. 

وہ بے خود سا اسے دیکھے گیا

اس کی نظروں کا ارتکازمحسوس کر کے وہ  اس کی طرف مڑی

تھینک یو.. مجھے یہاں لانے کے لیے…” 

کیا مجھے تمھارے اس تھینک یو کی ضرورت کبھی محسوس ہوئی ہے” .. وہ خفگی سے سر جھٹک کےبولا

پھر کیا ہے ایسا جو شکریے کا بدل ہو.” . وہ الجھی

وہ شرارتی مسکراہٹ جو پتہ نہیں کہاں کھو گئی ہے.” . بولتے ہوئے اس نے آنکھیں موند لیں. 

وہ چند ثانیے اسکا چہرہ دیکھتی رہی. بند آنکھوں کو, چہرے پر بکھرے بالوں کو, وہ نیم دراز تھا جھولے پر. بے حد آرام دہ انداز….اس کے لبوں پر بے حدنرم مسکراہٹ بکھری

اگر کبھی میں اتنی خوبصورت نہیں رہی تو تم تب بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرو گے”

اس نے آنکھیں کھول کر فرصت سے اسکا جائزہ لیا… وہ مکمل سفید لباس میں ملبوس تھی.لمبی قمیض اور چوڑی دار پاجامہ… دوپٹہ البتہ ڈیپ ریڈ کلر کا تھا. سنہری آنکھوں میں سیاہ کاجل کی لکیر تھی.سفید مومی ہاتھ پیر آج سرخ کیوٹکس کے ساتھ دمک رہے تھے.لپ اسٹک بھی رسپ بیری کے جیسی تھی… گہری سرخ

کمال کی بات ہے ویسے… ایک سرخ چونچ والی سفید بندریا کو لگتا ہےکہ وہ خوبصورت ہے.. زبردست” … 

وہ بہت دل سے مسکرایا. جانتا تھا وہ فورا چڑ جائے گی.حسب توقع وہ فورا مکا بنا کر اس پر جھپٹی

“تم… تم نے آج تک میری تعریف نہیں کی.”

اس نے بے ساختہ اسکا ہاتھ تھام کر اسکو اپنے سینے پر لٹایا

ایک پری آئی ہےمیری زندگی میں..اتنی محبت دے کر چلی تو نہیں جا ئے گی” ..وہ نرمی سے اس کے بال سمیٹ رہا تھا. وہ پگھلنے لگی

گندے ہو تم بہت..” . روکتے روکتے بھی مسکراہٹ کھیلنے لگی تھی. وہ دونوں مسکرارہے تھے. وہ پرانی اور گم شدہ مسکراہٹ جس سے شرارت ٹپکتی تھی.

ایک بات بتاؤں… ” وہ اس کے چہرے پر جھکا

ہاں بولو

A gemini woman is most desireable in all zodiac

یہ میں نے کہیں پڑھا تھا. رہی بات تمھاری تو تم مجھےہر طرح اچھی لگتی ہو.روز پہلےسےزیادہ

پنجرے میں بیٹھا مکاؤ کا جوڑا ان دونوںکو… دیکھ رہا تھا… محبت کےساتھ… رشک کے ساتھ.. دعا کے ساتھ

Advertisements

3 Replies to “Scene #24”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s