محبت۔ ۔ 

مجھے تم سے محبت ہے۔ 




بہت عام سا جملہ نہیں ہے؟ میں نے ابرو اٹھائی۔

ہاں اب ہو گیا ہے۔  کوئی شک نہیں اس میں۔ 

سب ہی اپنا دل ہتھیلی پر لیئے گھوم رہے ہیں۔ پر سوال یہ ہے کہ تمھیں آج اتنا عام کیوں لگا یہ۔ 

میں  نے بالوں میں انگلیاں پھنسائیں۔ 

کیونکہ تین چار آئی لو یو مجھ تک اب پہنچ رہے ہیں جب کہنے والے صاحب اولاد ہوگئے۔ اور میری شادی کے ارادے دس سال کے لئے ملتوی ہو گئے۔ 

اس کے لبوں پر نرم مسکراہٹ ابھری۔

تم سے شادی کر کے مرنا تھوڑی تھا ان سب کو۔ان سب نے نارمل لوگوں سے شادیاں کیں۔ اور محبت ابنارمل رکھی۔ 

اسکا لہجہ نرم تھا۔ 

اور اس رویے نے کتنی زندگیاں ابنارمل بنا دی ہیں۔ 

میرے الفاظ میں تھکن ابھری۔ 

سب کی زندگی ان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس کو آباد یا برباد کرنے کا حق دوسروں کو دینے والے بیوقوف ہوتے ہیں۔ انسان اور خاص طور پر صنف نازک کی سب سے بڑی عقلمندی ہی یہی ہے کہ اسکو پتہ ہو، کہاں ٹھہرنا ہے، کہاں سے آگے بڑھ جانا ہے۔ کس کو دل سے لگانا ہے، کس کو ڈائریوں میں بند کردینا ہے۔ 

اس نے  کہتے ہوئے پائن ایپل کا ٹن کھول کے میرے سامنے رکھا۔ 

مجھے تم سے محبت ہے۔ کانٹے میں پائن ایپل پھنسا کے اس نے میری طرف بڑھایا۔ مجھے پائن ایپل پسند نہیں مگر میں نے تھام لیا۔ کیونکہ

ڈائریاں جلا کے ، اب ٹھرنے کا دل چاہتا ہے۔ 

Advertisements

3 Replies to “محبت۔ ۔ ”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s