بس۔ ۔ 

کیا کرتی ہیں آپ؟ پہلا سوال ہوا۔ میں نے آرام دہ کرسی پر شدید فارمل محسوس کرتے ہوئے ٹیک لگانے سے گریز کیا۔ 

لکھتی ہوں۔اخبار میں۔ 

کالم یا آرٹیکل؟ تخلیقی صلاحیت  کی حد جاننے کی کوشش کی گئی تھی۔ 

آرٹیکل۔ میں نے یک لفظی جواب پر اکتفا کیا۔ 

دیکھ کر لگتا تو نہیں۔ چھوٹی لگتی ہیں آپ۔ سامنے والے نے شاید کنفیوز کرنا چاہا تھا۔ مگر اتفاق سے یہ میرا چوتھا انٹرویو تھا۔ میں نے سکون سے ٹیک لگائی۔ 

جب آپ کی انٹرویو کال آئی تھی تو میرے ابا نے بھی مجھ سے کہا تھا کہ آواز سے کوئی بوڑھے صاحب لگ رہے ہیں۔ مگرآپ کافی ینگ ہیں۔ جس طرح آپ کی عمر سے میں نے آپ کو جج نہیں کیا۔ اس طرح آپ پین کے بغیر مجھے بھی جج نہیں کر سکتے۔ 

سامنے والے کی آنکھ میں واضح حیرانی اتری۔ میں ہاتھ بڑھا کے پندرہ صفحات کی سی وی سامنے رکھی۔ 

نام دیکھ کہ تاثرات تبدیل ہوئے۔ 

اچھا یہ آپ ہیں؟نام گزرا ہے میری نظر سے۔ 

شکریہ۔ میں نے سر کو خم دیا۔ 

تو اگلے ایک سال میں کیا پلان ہیں آپ کے؟ اب کے مخاطب نے ٹیک لگائی تھی۔ 

پیسہ کمانا ہے۔ میں نے گھڑی دیکھی۔ 

جی؟ کوئی جذبہ؟وطن کی خدمت، معاشرے میں سدھار لانے کا عزم۔ کچھ بھی نہیں؟ اگلا حیران نہیں ، محظوظ ہوا تھا۔ مجھے بخوبی اندازہ ہوا۔ 

سننے میں اچھا نہیں لگتا۔ مگر سچ ہے کہ میرا فی الحال ایک ہی مقصد ہے۔ پیسہ کمانا۔ میں نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کر کے کھولیں۔ 

لیکن میں نے آپ کا پورٹ فولیو دیکھا ہے۔ اسپیشلی آپ کے بلاگز میں اک کمزوری ہے، ہمیں ایسی بندی نہیں چاہئے جو صبح ہارواسکوپ دیکھ کر نکلے۔ دن برا ہو تو گھر لوٹ جائے، کام نہ کرے اور روز جیمینائی پر اک پوسٹ لکھے۔ ہمیں پریکٹکل اور پروفیشنل رویہ چاہئے۔ 

میں نے دو سیاہ آنکھوں کو غور سے دیکھا۔ دنیا میں سب سے نایاب آنکھوں کا رنگ سیاہ ہے۔ مجھے یاد آیا۔ 

آسٹرولوجی ایک علم ہے۔ اور کسی بھی علم کو جاننا کبھی بھی ممنوع نہیں رہا۔ اسکو غلط طریقے سے ماننا یا استعمال کرنا ممنوع ہے۔ میں ہارواسکوپ نہیں پڑھتی۔ جوزا کو آپ میرا تمثیلی کردار کہ سکتے ہیں۔ 

مجھے محسوس ہوا میں ٹیبل پر ردھم میں ناخن بجا رہی ہوں۔ میں نے ہاتھ روک لئے۔ 

ایسا نہیں ہوسکتا آپ کسی چیز کو اتنا مانیں تو پھر فالو نہ کریں۔ اصرار کیا گیا۔ 

میں نے دونوں ہاتھ کی انگلیاں باہم پھنسا کر ٹھوڑی ٹکائی۔ 

قران اک الہامی کتاب ہے۔ اس بات پر ہمیں اتنا یقین ہے جتنا اپنے شجرہ نسب پر بھی نہیں ہوتا۔ ہم ہر دوسرے جملے میں باور کراتے ہیں کہ قران اک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مگر ہم تا حیات اس کو فالو نہیں کرتے۔ 

چند لمحوں بعد آواز ابھری۔

بہرحال یہ ایک ویک پوائنٹ یے۔ ایسے لوگ پروفیشنل نہیں ہوا کرتے۔ میرا تجربہ کہتا ہے۔ خیالی باتیں کرتے ہیں۔ خیالی پلاؤ بناتے ہیں۔اس کا دھیان رکھنا ہوگا۔ 

میں پہلی دفعہ مسکرائی۔  

اک دفعہ کا ذکر ہے کہ اللہ کے حکم سے جبرائیل علیہ السلام  مصر کی اک بستی میں اترے۔ جہاں دو بچے کھیل رہے تھے۔ جبرائیل ان کے پاس گئے اور استفسار کیا۔ کیا تمھیں پتہ ہے اس وقت جبرائیل کہاں ہے؟ بچہ کچھ دیر خاموش رہا۔ پھربولا۔ آسمان پر نہیں ہے۔ زمین پر ہے۔ اسی جگہ۔ اور یہاں  اس وقت ہم تین لوگ ہیں۔ اک میں ہوں۔ اور میں جبرائیل نہیں ہوں۔ دوسرا یہ میرا بھائی ہے۔ یہ بھی جبرائیل نہیں ہے۔ تیسرا ’تو اجنبی۔ اس لئےیقیناً ’تو ہی جبرائیل ہے۔ 

میں نے بیگ کی اسٹرپ کندھے پر ڈالی۔ 

اس پروفیشنلزم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ جس کا عمر سےکوئی تعلق نہیں۔ البتہ علم سے ہے۔ 

خاموشی۔ ۔ ۔ 

آپ کل سے جوائن کر سکتی ہیں۔ 

Advertisements

4 Replies to “بس۔ ۔ ”

  1. I’m sure, iss tarah kay interviews hotay houn gey..
    But
    , interviewer should not comment on responses / performance credentials… We don’t do it… Also FPSC and PPSC people don’t.
    Projective assessment doesn’t need to be shared loud and clear..!

    The responses are so interesting… 😊😊

    Gemini responses 👐

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s