Princess Fiona

کیسی ہو؟ شوخ کھنکتی آواز پر میں نے سر گھما کے دیکھا۔

چمکتی دمکتی ساڑھی میں ملبوس چنگھاڑتی لپ اسٹک لگائی موٹی تازی  خاتون نے نگاہوں کو بے طرح تراوٹ بخشی۔

وہ ہرے رنگ کے موٹے شریک کی بیوی کا کیا نام تھا؟ میں نے با آواز بلند سوچنے کی غلطی کی۔ جواب میں اماں کی زوردار کہنی نے میری معصوم پسلیاں سینک دیں۔ 
اسلام و علیکم۔ ۔ الحمدللہ اچھی ہوں ۔ آپ کیسی ہیں؟ اماں کی گھوریوں کی تاب نہ لاکر میں نے بوکھلا کے خوش اخلاقی دکھائی۔

ارے بس کیا بتاؤں۔  خاتون کی ٹھنڈی آہوں  نے سائیبیریا کو مات دینے کی کوشش کی۔ اس عمر میں کچھ نہ کچھ تو لگا ہی رہتا ہے جان کو۔ ابھی پچھلے ہفتے کان کے درد میں  تڑپتی رہی۔ 

باقاعدہ تڑپ کے دکھایا گیا۔ اس سے پہلے میں پھر باآواز بلند لا حول پڑھتی۔ پسلی کی ٹیسوں نےروک دیا۔ 

جی جی۔ ۔ آج کل بہت ان ہے یہ۔ ۔ میرا دھیان سامنے والی لڑکی کے ڈیزائنر سوٹ پر چلا گیا۔ خاتون کی پھٹی آنکھیں دیکھ کر گڑبڑا کے تصحیح کی۔ ۔ یہ ہی کان کا درد۔ وائرل ہے شاید۔ ۔ 

ارے میری چھوڑو۔ ۔ اپنی سناؤ۔ اتنی پیاری ہوا کرتی تھیں۔ کیا ہوگیا اچانک۔ سوکھ کے کانٹا لگ رہی ہو۔ ۔ وہ پینترا بدل کے بارہ مسالے کے ٹاپک پر آئیں۔

میں نے سامنے لگے آئینے میں اپنی شبیہ پر نظر ڈالی۔ ۔ بظاہر تو سب ہی کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔ 

پچھلے دنوں کچھ بیمار بھی رہی ایڈمٹ تھی ہاسپٹل میں ۔ ۔ مگر اب اللہ کا شکر ہے بہت بہتر ہے۔ جواب اماں کی طرف سے آیا۔

اب کے خاتون ذ را کھل کے میدان میں اتریں۔  ہاں وہ ہی تو میں نے بھی سنا تھا۔ ایسا کیا ہو گیا اچانک۔ لڑکیوں کے معاملے میں تو ذرا ذرا سی بات رائی کا پہاڑ بن  جاتی ہے۔ پریشانی والدین کو ہوتی ہے۔ سو طرح کے سوال، سو طرح کی باتیں اٹھتی ہیں۔ ہمدردی کرنے والے کم اور باتیں بنانے والے زیادہ۔ 

اب کے میں آنکھیں سکوڑ کر ذرا توجہ سے موٹے شریک کی بیوی کی چمک دمک کا جائزہ لیا۔ جو اپنی ہی باتوں پر سر دھن رہی تھیں۔

آگے کیا سوچا ہے تم نے؟ کیا کروگی؟ اب کے انھوں نے یوں پوچھا جیسے کسی قریب المرگ کی آخری سانسیں گن رہی ہوں۔ 

میں نے بمشکل اماں کا لحاظ  کر تے ہوئے زبان کی دھار کو تھپک تھپک کر سلایا۔ 

کچھ نہیں بس کسی میڈیا ہاؤس میں جاب کرونگی۔ مصروف رہونگی۔ الفاظ کے ساتھ میرا لہجہ بھی سادہ ہی تھا۔

ہائے اللہ میٖڈیا میں؟ ایکٹنگ کروگی؟ ٹی وی پر آؤ گی۔  وہ دہل ہی تو گئیں۔ میں  نے کراہ کے آنکھیں بند کیں۔ میڈیا ہاؤس کا مطلب صرف ایکٹنگ ہی نہیں ہوتا۔

آج کل زمانہ بہت خراب ہے۔ لڑکیاں تو ویسے  بھی جلدی بدنام ہوتی ہیں۔ لڑکے ہوں تو چلو خیر ہوتی  ہے۔ مگر لڑکیاں ان سب کاموں میں اچھی نہیں لگتیں۔ ایسے اخباروں میں لکھنا۔ ہر جگہ نام چھپتا پھرے۔ اوپر سے ٹی وی۔ ارے ڑکیاں تو جھکی سمٹی اچھی لگتی ہیں۔ گھر بساتی۔ سو باتیں سن کر بھی برداشت کرلینے والی۔ 

ان کے لبوں پر کھلنے والے ہر پھول پر میں نے اماں کا مدھم پڑتا چہرہ دیکھا۔ لمحوں کی بات تھی۔ اور میرا لحاظ، مروت، رواداری ، وضع داری سب بھاپ بن کر اڑ گیا۔

میں نے رخ موڑ کے افغان جلیبی پر اعضاء کی شاعری پیش کرتی موصوفہ کی بیٹی کو نگاہ بھر کے دیکھا۔ میری نگاہوں کے تعاقب میں دیکھتی خاتون قدرے گڑبڑائیں۔ 

ارے بچیاں بھی بس۔ ۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر اتاؤلی ہونے لگتی ہیں۔ کیا کہا جائے۔ 

میں نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ 

تم بتاؤ۔ آگے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ کوئی قدم اٹھانے سےپہلے ذرا دیکھ بھال لینا۔ 

موضوع گفتگو بننا میری اولین چڑ ہے۔ خاتون کے اس جملے پر ایک جیمنائی ایونجر انگڑائی لیکر اٹھ بیٹھی۔ 

ابھی تو آگے کافی پلان ہیں میرے۔ میں نے بالوں کے کرلز اپنی انگلیوں پر لپیٹے۔ سارے پرانے شوق واپس آرہے ہیں میرے۔ میری بچپن سے خواہش تھی بالوں کو بلیو کلر میں ڈائی کروالوں۔ گرین ہائی لائٹس کے ساتھ تو کیا بات ہے۔ 

کچھ ہابیز بھی ہیں میری ، جیسے ایک ٹائم میں دو کلو اسٹرابیریز کھالینا، جاسوسی اورکرائم اسٹوریز پڑھنا، سائبر کرائمز کی فیلڈ بھی بہت اپیل کرتی ہے مجھے۔ سنا تو ہوگا آپ نے، نیٹ پر جو فراڈ ہوتے ییں۔  ویسا ہی اک ایڈونچر بس۔ ۔ 

خاتون کی پھٹی آنکھیں دیکھ کر مجھے بریک لگانی پڑی۔ 

سیریس نہیں ہوں میں۔ بس ہونہی شوق شوق میں تھوڑی سی ہیکنگ سیکھی تھی تو بس۔ 

دونوں ہاتھ ٹیبل پر جما کر میں ان کی طرف جھکی۔

اور کچھ ہو نا ہو، میڈیا کے بندے ہوتے ڈیشنگ ہیں۔ کوئی پسند آگیا تو گل ہی مک گئی۔ 

چھٹے ہوئے بدمعاشوں کی طرح آنکھ ماری۔

خاتون بمشکل ساڑھی سنبھال کے جانے کو اٹھیں۔ 

اماں نے میرے بازو کو مقدور بھر چٹکی میں بھر کے مجھے بھولی بسری اخلاقیات یاد دلانی چاہی۔ وہ خاتون اب الوداعی کلمات تک آچکی تھیں۔ 

سنیں آپ نے وہ مووی دیکھی ہے؟ میں نے مضروب بازو سہلاتے ہوئے خاتون سے پوچھا۔ 

کونسی،؟

“Shrek”

نہیں تو۔ ۔ 

اسکی شہزادی آپ سے بہت ملتی ہے۔ میں پورے دل سے سچ بولا۔ 

ارے ہٹو بھی۔ اس عمر میں کہاں شہزادی سے ملوں گی۔ 

وہ بے طرح شرمائیں۔ گال اناری ہوگئے۔ رخصت لیکر دور ہوئیں۔ تو اماں نے زبردست دھموکا جڑا۔ 

گھر چلو ذرا۔ بتاتی ہوں۔ 

یہ امیاں کبھی خوش نہیں ہوتیں

Advertisements

19 Replies to “Princess Fiona”

  1. موضوع گفتگو بننا میری اولین چڑ ہے۔ خاتون کے اس جملے پر ایک جیمنائی ایونجر انگڑائی لیکر اٹھ بیٹھی

    This was epic…!!

    Liked by 1 person

  2. واہ ۔ ۔ اب کیا تعریف کروں ۔ ۔ ۔ بہت ہی خوُب ۔ ۔ ۔ مزہ آ گیا
    😀
    “موضوع گفتگو بننا میری اولین چڑ ہے۔ خاتون کے اس جملے پر ایک جیمنائی ایونجر انگڑائی لیکر اٹھ بیٹھی۔”
    جیسا کے آپ جانتی ہیں ۔ ۔ میں بھی جیمینی ہوں اور یہ ‘موضوعِ گفتگو’ والی قدر بلکل مشترک ہے ہم میں
    😀

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s