چائے کا کپ

پوسٹ پڑھی کل تمھاری۔ تمھیں واقعی مارلن منرو پسند ہے؟ 

بے حد عام سا سوالیہ لہجہ۔ 

ہاں کیوں؟ تمھیں کوئی مسئلہ ہے؟ حسب عادت میں تڑخی۔

نہیں مجھے کیا مسئلہ ہوگا۔ اس نے کندھے اچکائے۔

لوگوں کی چوائسز عجیب سی ہونا ان کا ذاتی پرابلم ہے۔ میرا نہیں۔

تو اس سوال کا مقصد؟ میں نے چائے کا بھرا کپ واپس میز پر رکھا۔

میں نے لوگوں کی بات کی ہے، تمھاری نہیں،  تمھیں کب سے انگارے اور شرارے پسند آنے لگے؟ اوپر سے بندہ کچھ بولے تو سنو بھی نہیں۔

فرمائیے۔ میں نے دونوں ہتھیلیوں پر چہرہ ٹکا کے فرصت سے پوچھا۔

نہیں نہیں آپ فرمائیے۔کیا پسند ہے آپکو؟ 

وہ خوبصورت ہے۔ میں نے جواز دیا۔

حسن دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتا ہے۔ اور وہ خوبصورت ہے نہیں۔ ۔ ۔ تھی۔

جواز چٹکیوں میں اڑایا گیا۔

لوگ حرارت پسند کرتے ہیں آگ نہیں۔ وہ جلا دیتی ہے۔ پانی کا گلاس بھرتے ہیں۔ پینے کو کنویں میں نہیں ڈوب جاتے۔ الکحل کا اک قطرہ شفا بن کے آنکھ میں ٹپکتا ہے۔  زیادہ ہو تو اس میں شر تو رہ جاتا ہے۔ آب نہیں۔ شدت پسندی کبھی بھی اچھی نہیں ہوتی خواہ چوائس میں ہی کیوں نہ ہو۔ اس کی وجہ شہرت اتنی بھی اچھی نہیں کہ ڈھنڈورا پیٹ دو۔

اس نے بھی دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کے بغور مجھے دیکھا۔ 

میں نے ٹھنڈی چائے پر جمی تہ کو چمچ سے ہٹایا۔

حرارت سے ہاتھ سینکے جا سکتے ہیں، پیٹ بھرنے کو، بھوک سے بلکتے بچوں کے لئے روٹی نہیں پکائی جا سکتی۔ اک گلاس پانی اپنے پر تعیش بیڈروم میں بیٹھ کر تو دل کو تراوٹ دیتا یے۔ مگر جلتی تڑپتی دھوپ میں اسمعیل کی پیاس بجھانے کو چشمہ نہیں پھوٹتا۔ اک ماں کی سعی، اس کی ریاضت کی عظمت کو سلام کرنے وہ چشمہ بہتا ہے۔ شدت ہمیشہ بڑی تبدیلیاں لاتی ہے۔ اسکو چوائس کے ترازو میں مت تولو ۔ ہم خامیاں تو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ مگر اچھی چیزوں سے تحریک لینا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ برے کی مثال دو تو برائی۔ اچھے کی بات کرو تو تقابل پر اتر آتے ہیں کہ وہ کہاں اور ہم کہاں۔ 

چائے کی طرح میرا لہجہ بھی ٹھنڈا تھا۔

آگے خاموشی تھی۔ جامد خاموشی۔

تمھیں پتہ ہے لوگ تمھیں مغرور سمجھتے ہیں۔ اس نے یوں پوچھا جیسے موسم کا حال پوچھا ہو۔

جب جواب نہ ہو تو لوگ ایسے ہی کہتے ہیں۔ میں مسکرائی۔

بہرحال مارلن مجھے اتنی بھی پسند نہیں۔ تسلی رکھو۔ اب اگلا لیکچر سوچ سمجھ کے تیار کرنا۔ دنیا کا سب سے آسان کام تنقید ہے۔ 

میں نے سکون سے بحث سمیٹی۔

چائے کا کپ دوبارہ گرم کر بھی لیا جائے تو ویسا ذائقہ نہیں دیتا۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ 

Advertisements

6 Replies to “چائے کا کپ”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s