جلن

سنہری آنکھوں کو  اس نے گہرے سیاہ کاجل میں بسایا۔بیش قیمت سیاہ میکسی میں اس کی گوری رنگت دمک رہی تھی۔ لمبے  گہرے سرخ بالوں کو سمیٹ کر اس نے جوڑا بنایا جس نے اسکی راج ہنس جیسی اٹھی  گردن کو مزید واضح کردیا۔ لبوں کے کٹاؤ کو سرخ چیری رنگ کی لپ اسٹک نے مزید قاتل بنادیا تھا۔

پیروں میں سیاہ ہائی ہیلز ڈال کر اس نے آئینے کو نگاہ بھر کے دیکھا اور آئینے  نے پوری سچائی سے گواہی دی کہ اس کا روپ آج دو آتشہ ہے
ہال پہنچ کر بھی ہر نگاہ میں ابھرتی ستائش کو وہ بخوبی محسوس کر سکتی تھی۔ خصوصی مہمانوں کے لئے سجائی گئی ٹیبل پر بھرپور لوازمات سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بھی اک ادائے بے نیازی اس کی ذات کا حصہ بنی رہی۔ گو کی سرخ مسکراہٹ اس کے لبوں سے لمحہ بھر کو جدا نہیں ہوئی تھی۔

ٹیبل پر اب گرما گرم بھاپ اڑاتی کافی سرو کی جانے لگی تھی۔ کافی ان دنوں اس کی رگوں کا خون اور جسم کا ایندھن تھی۔ مسکراتے ہوئے اس نے کافی اٹھانے کو ہاتھ بڑھایا۔ شخصیت کا طلسم تھا یا مسکراہٹ کی اثر انگیزی۔ ۔ ۔ تھمانے والے کا ہاتھ بہکا اور گرم کھولتی کافی  کا مگ اسکی گود میں الٹ گیا۔ لمحے بھر کی بات تھی۔ خوبصورت نقوش اذیت سے بگڑے تھے۔ 

چند ہی لمحوں میں چہرہ واپس سپاٹ ہوگیا ۔مسکراہٹ اب نہیں تھی۔ تو اذیت بھی نہیں تھی۔ لوگ اٹھنے لگے، کسی نے ٹشو پکڑایا تو کوئی پانی لینے بڑھا۔ کسی نے پریشانی تو کسی نے ہمدردی دکھائی۔

اس کی توجہ کہیں نہیں تھی۔ وہ سوچ رہی تھی۔ رگوں کا ایندھن بننے والے جب اذیت دینے پر اتر آئیں تو روح تک جھلسا دیتے ہیں۔ اپنے مار کے چھاؤں میں نہیں  ڈالتے۔ بلکہ وہ اس جگہ وار کرتےہیں  جدھر پہلی ضرب ہی کاری ہو۔

Advertisements

2 Replies to “جلن”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s