جرم

زندگی کےجتنے دروازے ہیں مجھ پر بند ہیں

حد نظر سے آگے بڑھ کر دیکھنا بھی جرم ہے

اپنے عقیدوں اور یقینوں سے نکل کر سوچنا بھی جرم ہے

کیوں کہنابھی جرم ہے, کیسے بھی کہنا جرم ہے

سانس لینے کی تو آزادی میسرہے لیکن

زندہ رہنے کے لیے انسان کو کچھ اور بھی درکار ہے

اور اس کچھ اور کا تذکرہ بھی جرم ہے

زندگی کے نام پربس اک عنایت چاہیے

مجھ کو ان سارے جرائم کی اجازت چاییے

روزنامہ جنگ

جولائی 25

2016

Advertisements

4 Replies to “جرم”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s